سورۃ البقرہ پارٹ1-2

سورۃ البقرہ پارٹ1-2


سورۃ البقرہ کے 4 بڑے حصے
🌱آج دو حصوں پر بات کریں گے۔
💠پہلا حصہ تمہیدی ہے ،آیات ۱-۳۹ پر مشتمل ہے۔
🍄بیان کردہ مضامین ؛
🍁انسانوں کی ۳ اقسام بیان کی گئی ہیں۔
🍁الله کے پیغام کے جواب میں انسانوں کے ۳ طرح کے ردعمل ہوتے ہیں۔
🔸گروہ ۱ ؛ مومنین
🔸گروہ ۲؛ کافرین
🔸گروہ ۳؛ منافقین
🔹پہلا گروہ جنتی
🔹باقی دو دوزخی
🔘 آیات ۱-۵
🌸مومنین کی ۵ صفات بیان کی گئیں
🎍غیب پر ایمان
🎍نماز کا قیام
🎍الله کی راہ میں خرچ کرنا
🎍قرآن اور سابقہ کتب پر ایمان
🎍الله سے ملاقات پر یقین
🔘 آیات ۶-۷
💥کافرین کی صفات؛
⚡انکار کرنے والے
⚡ضدی لوگ
🍁ان پر تبلیغ کرنا نہ کرنا برابر ہے
🚫ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے الله ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

🔘 آیات ۸-۲۰
💥منافقین کا تذکرہ۔
⚡دھوکے باز لوگ
⚡الله اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ، درحقیقت خود کو دھوکہ دیتے ہیں
⚡بظاہر ایمان کا دعویٰ، مگر ایمان نہیں
🖤دلوں میں نفاق کی بیماری ہے۔
🍁ایمان لانے والوں کو بیوقوف کہتے ہیں۔
🍁خود کو ہوشیار ، سمجھدار سمجھتے ہیں۔ کہ ہم کامیابی کا سودا کررہے ہیں
🍁درحقیقت یہ لوگ ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنے والے ہیں۔
💫قرآن کا انداز ؛ مثالوں سے بات سمجھائی جاتی ہے
🌱یہاں دو مثالیں دی گئیں۔
🍃دو طرح کے منافق
1⃣  دل سے ہی منکر ، ایمان کا دکھاوا کرتے ہیں۔
2⃣ شک، ایمان کی کمزوری میں مبتلا۔ حق کے قائل ، مگر مشکلات برداشت نہیں کرنا چاہتے تھے۔
🔘اگلی آیت میں تمام انسانوں کو توحید کی دعوت دی گئی۔
🥀الله کی دو صفات کا بیان
۱)خالق ، ۲) رب
⤴انسانوں کے پہلے گروہ میں شامل ہونے کیلئے اس ذات کی عبادت کرو۔

🔘 آیات ۳۰-۳۷
🏵آدم  ؑ کی خلافت کا تذکرہ ؛
🌎دنیا میں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا
⚡آدم  ؑ اور ابن آدم کی شیطان کے ساتھ ہمیشہ کشمکش جاری رہے گی۔
🔸ابلیس جنات میں سے تھا
✅آدم  ؑ اور حوا  ؑ نے اپنی غلطی سے توبہ کی
❎ابلیس نے غلطی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، ضد اور تکبر کیا۔

♻قیامت تک رسولوں کے ذریعے سے ہدایت کا انتظام کردیا گیا ہے۔
✅اس ہدایت کی پیروی کرنے والا ۔۔ جنتی ہے۔۔کوئی خوف اور غم نہ ہوگا
❎پیروی نہ کرنے والا ۔۔ ناکام ہوگا۔
بنی اسرائیل کو اصول بتایا گیا۔
⚠جنت میں داخلہ حسب نسب کی بنیاد پر نہیں۔
❗بلکہ ہدایت کی پیروی کی بنیاد پر۔
↩یہ امت مسلمہ کیلئے بھی واضح پیغام ہے۔
⭕البقرہ کے تمہیدی حصے کا مرکزی مضمون
💫توحید اور انسانوں کے منصب کے سلسلے میں ۳ گروہ مومنین ، کافرین اور منافقین ہیں۔
💫انسانوں کو چاہیے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں
💫ابلیس کے شر سے بچیں
💫توحید کو اختیار کریں  
💫مومنین کے گروہ میں شامل ہو جائیں ۔
🌈تاکہ جنت حاصل کر سکیں۔

💠البقرہ کا دوسرا حصہ : (آیات ۴۰-۱۴۱ )
🍄بنی اسرائیل کا تذکرہ
🍁ابتداء میں انھیں اسلام کی دعوت دی گئی
🍁دوسروں پر مذہب کی اجارہ داری کی بجائے اپنی ذات پر غور کرو۔
🍁الله سے ملاقات پر یقین کے ساتھ صبر اور نماز سے مدد لینے کا کہا گیا
🍁قیامت کے عذاب سے ڈرایا گیا۔
🍁اس دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔
🔘 آیت ۴۹-۷۹:
🍃بنی اسرائیل پر الله کے احسانات کا تذکرہ
🍃ان کی نافرمانیوں اور جرائم سے آگاہ کیا گیا۔
🍃یہاں کسی ایک فرد کی نہیں ، پوری قوم کی بات کی جا رہی ہے۔
🔅اپنی حیثیت کو سمجھیں۔
⬅فرد بھی ہیں امت بھی ہیں۔
❗دونوں حیثیتوں کی بنیاد پر الله کے ہاں جوابدہ ہیں۔
🍄انعامات کا تذکرہ
☁فرعون کے مظالم سے نجات دی
☁تورات سے نوازا
☁صحرا میں من و سلویٰ نازل کیا۔
☁بادلوں کا سایہ
🌨پانی کیلئے ۱۲ چشموں کا انتظام کیا۔
💥نافرمانیوں کا تذکرہ :
⚡بچھڑے کی عبادت شروع کر دی
⚡الله کو دیکھنے کا مطالبہ
⚡آیات الہی کا انکار
⚡انبیاء کا قتل
⚡سبت کے قانون کی خلاف ورزی
⚡گائے کو ذبح نہ کرنے کے بہانے
⚡الله کی آیت میں تبدیلیاں
⚡دنیاوی فائدوں کیلئے آیات گھڑ کر الله کی طرف منسوب کی گئیں
☄بنی اسرائیل کو ملامت کیا
❓وجہ؟ ۔۔۔ اپنی نسل پر تعصب اور غرور
⚡جنت کو اپنی نسل کا استحقاق سمجھتے
⚡جمہنم میں جانا بھی ہوا تو چند دن کیلئے
⚡یہ غلط تصور بنی اسرائیل میں بھی تھا،
⚡اور امت مسلمہ کے ذہنوں میں بھی آگیا۔
🔘 آیت ۸۳:
📍بنی اسرائیل سے میثاق لیا گیا
✅توحید، والدین کے حقوق، رشتے داروں ، یتامیٰ ، مساکین سے حسن سلوک،
اچھی بات کرنا ، نماز قائم کرنا ، زکوۃ ادا کرنا
❎قتل نہیں کرنا ، اپنے ہی لوگوں کو جلا وطن نہیں کرنا

⚡الله کے حقوق پورے نہیں کرتے تھے
⚡کتاب کی جزوی پیروی، کچھ حصہ پر ایمان کچھ کا انکار۔
❣جو مفاد کے مطابق ، ان پر عمل کرتے ۔ جو مفاد کے خلاف ان کو چھوڑ دیتے ۔
🔸اپنے لوگوں کے ساتھ لڑائی ، پھر فدیہ دے کر چھڑانا کہ کتاب میں اس کا حکم ہے۔
🔥جزوی پیروی کرنے والوں کیلئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں آگ کی سزا۔
⚡بنی اسرائیل کے نسلی تعصب کا تذکرہ۔۔ اس کی وجہ سے قرآن کا انکار
⚡نبوت کو اپنی نسل کا حصہ سمجھتے
⚡لوگوں پر دست درازی کرکے ان کا استحصال کرنا چاہتے تھے۔

🔘 آیات ۹۲۔۔۔
💥بنی اسرائیل کے مزید جرائم گنوائے گئے۔
⚡بچھڑے کو خدا بنایا
⚡عہد کے بعد سَمِعنَا و عَصَینَا ( سن لیا مگر مانیں گے نہیں) کہا
⚡دنیاوی زندگی کے حریص ہیں۔
⚡جبرائیل سے دشمنی ، کہ نبوت ان کی نسل میں کیوں نہ آئی
⚡الله سے عہد کرنے کے بعد اسے پھینک دیا۔
🍄ہاروت و ماروت کا تذکرہ۔
⚡ایمان کی کمزوری ، کھلے کفر میں مبتلا لوگ، جادو سیکھ کر خاندانی نظام کو تباہ کرتے۔
⚡یہودِ مدینہ ، مسلمانوں کو حسد کی وجہ سے دوبارہ کافر دیکھنا چاہتے ہیں۔
🍁بنی اسرائیل کی نسل پرستی و خوش فہمیاں کہ ہم ہی جنت میں جائیں گے
🌺الله کا فرمان : ہر شخص جنت میں داخل ہوسکتا ہے۔
☘شرط ؛ ایمان ، عمل صالح

🥀الله کی کوئی اولاد نہیں ، کن فیکون اختیارات کا مالک
🍃یہودی ، عیسائی مسلمانوں سے ہرگز راضی نہ ہونگے جبتک یہ ان کی پیروی نہ کریں۔
🍃آخر میں یہود و نصاریٰ کو قیامت کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔
🔘 آیات ۱۲۴-۱۴۱
🌿بنی اسرائیل کو ان کے آباؤاجداد ابراہیم  ؑ ، اسماعیل  ؑ اور اسحاق  ؑ کا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی۔
✔ابراہیم  ؑ کو سب کا امام بنایا گیا تھا
✔، امامت بھی ایمان اور عمل سے مشروط کی گئی۔
✖ابراہیم  ؑ کی نسل کے ظالم لوگوں سے الله کا وعدہ نہیں ہے۔
✔یعقوب  ؑ نے دنیا سے جانے سے پہلے اپنے بیٹوں سے توحید کا عہد لیا۔
✔رسول اکرمؐ کی نبوت بھی ابراہیم  ؑ کی قبولیت دعا کا نتیجہ ہے۔
✔اہل کتاب کو دین ابراہیمی کا اتباع کرنے کا حکم دیا گیا۔
🔲اہل کتاب ( یہود ، عیسائی) کو دعوت : ✖رسولوں میں فرق نہ کریں ،
 ✔بنی اسماعیل میں آنے والے نبی محمد ﷺ پر ایمان لائیں۔
✔یہودیت و عیسائیت کو چھوڑ کر الله کا رنگ اختیار کرنے کی دعوت دی گئی۔
صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً  ۫

⭕دوسرے حصہ کا مرکزی مضمون :
🔅بنی اسرائیل کو نبیﷺ کو بحیثیت آخری رسول تسلیم کرنے اور آخری شریعت پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی اور انھیں امامت کے منصب سے ہٹائے جانے کے اسباب تفصیلی طور پر بتائے گئے۔
Categories:
Similar Posts

0 comments: