قال رسول الله ﷺ
ایک دوسرے سے حسد نہ کرو"
(صحیح مسلم 2564
پیارے بچو!
ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے ھمیں اس حدیث میں ایک
بہت بری عادت سے منع فرمایا ھے، اور وہ ھے حسد-
ایک اور حدیث سے پتہ چلتا ھے کہ یہ ایک ایسی
بیماری ھے جو انسان کی نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ھے جیسے آگ سوکھی لکڑی کو-
حسد کیا ھے؟
حسد کے دو حصے ھیں۔
1۔کسی کے پاس اللہ رب العزت کی
دی ھوئی کوئی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے-
2- اور یہ سوچ رکھنا کہ یہ نعمت اس کے پاس
کیوں ھے؟ اور یہ مجھے کیوں نہیں ملی؟
حسد کرنے کی اسلام میں سخت ممانعت ھے-
قرآن میں بھی سورة الفلق میں حاسد کے شر سے پناہ
مانگی گئی ھے-
پیارے بچو!
حاسد کبھی بھی مطمئن اور خوش نہیں رہ سکتا۔ اور وہ
اپنے حسد کی وجہ سے اپنا نقصان تو کرتا ھی ھے اس سے اللہ تعالی کو بھی ناراض کر
دیتا ھے-
اب آپ یہ قصہ سنیے اور خود ھی فیصلہ کریں کہ حاسد
کا انجام کیا ھوتا ھے-
الله تعالی نے جب آدم علیہ السلام کو بنایا تو
فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں- شیطان جو کہ جنات میں سے تھا
اور اللہ عزوجل کی بہت عبادت کرنے کی وجہ سے مقرب بھی تھا، اس کو بھی یہی حکم ملا،
لیکن اس نے اپنے تکبر کی وجہ سے سجدہ کرنے سے انکار کیا-
پیارے بچو!
کیا آپ کو علم ھے کہ تکبر ایک اور بہت بڑی برائی
ھے، اور حدیث سے پتہ چلتا ھے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ھوا تو وہ جنت
میں نہیں جائے گا-
تکبر کیا ھے؟
اپنے آپ کو کسی بھی معاملے میں دوسروں سے اونچا
سمجھنا اور دوسروں کو حقیر/کمتر سمجھنااب آتے ھیں واپس اپنے قصے کی طرف، تو شیطان کو
لگتا تھا کہ میں تو آگ سے بنا ھوں اور آدم علیہ السلام مٹی سے، اور میں آدم علیہ
السلام سے بہتر ھوں تو میں آدم علیہ السلام کو سجدہ کیوں کروں؟ یہی تکبر اس کو حسد
کی طرف لیکر گیا- اور یہ سب سے پہلا حسد ھے جو کیا گیا- ابن القیم رحمه اللہ کہتے
ھیں کہ حاسد اصل میں شیطان کی پیروی کرتا ھے-
اب اس حسد میں شیطان نے ٹھان لیا کہ جو نعمت اور
فضل اللہ کریم نے آدم علیہ السلام کو دیا ھے اس کو ان سے چھینا جائے- آدم علیہ
السلام اور ان کی بیوی جنت میں رہ رھے تھے اور ان کو اللہ تعالی نے ھر نعمت سے
نوازا تھا۔ اور اللہ تعالی نے آزمائش کے طور پر صرف ایک درخت کا پھل کھانے سے منع
کیا تھا- شیطان نے اسی طرف سے وار کرنے کا سوچا اور آدم علیہ السلام اور ان کی
بیوی کو حرام کردہ درخت کا پھل کھانے پہ ایسے مائل کیا کہ ان دونوں سے اللہ تعالی
کی نافرمانی ھو گئی-اور وقتی طور پر شیطان کامیاب ھو گیا- بعد میں اللہ تعالی نے
آدم علیہ السلام کو ایک بہت پیاری دعا سکھائی۔ جو ھم حدیث نمبر ایک میں پڑھ چکے
ھیں (الاعراف 23) اور اللہ "غفورورحیم"
نے آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی کو معاف کر دیا اور
زمین پر اپنا نائب بنایا-
جبکہ شیطان کو کیا ملا؟ ذلت اور رسوائی
شیطان ھمارا کھلا دشمن ھے اور وہ بہت
خوش ھوتا ھے جب ھم انسان اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ھیں- اس لیئے ھمیں پوری کوشش
کرنی چاھئیے کہ ھم شیطان کو دوست نہ بنائیں اور اس کو خوش نہ کریں-
جب بھی کچھ کرنے کا ارادہ ھو تو ذرا ٹہر کر سوچیں؛
کیا اس سے میرا رب خوش ھو گا یا ناراض؟ اگر اللہ سبحانه تعالی ناراض ھو گا تو صاف
ظاھر ھے کہ شیطان خوش ھو گا- یہی تو وہ چاھتا ھے اور بچو! ھم سب نے مل کر، اللہ "النصیر" کی مدد سے شیطان کو ناکام بنانا
ھے ان شاءالله- اب آپ اس قصے پر ذرا غور کر کے دیکھیئے، شیطان کے
تکبر اور غرور نے اس کو کہاں لا کھڑا کیا؟ کہاں تو وہ اتنا مقرب تھا اور کہاں اللہ
تعالی نے اس کو ذلیلوں میں شامل کیا- (الاعراف 13)
اور شیطان اور اس کے ماننے والوں کا ٹھکانہ جہنم
ھو گا، جو کہ بہت ھی برا ٹھکانہ ھے-
اس قصے سے ھمیں یہ سبق ملتا ھے کہ کبھی بھی کسی کا
برا نہیں سوچنا چاھیئے اور نہ ھی اللہ تعالی کی دی ھوئی نعمتوں کو کسی کے پاس دیکھ
کر حسد کرنا چاھئیے-
نبی کریم ﷺ نے صبح اور شام کے اذکار میں معوذتین
پڑھنے کی تاکید کی ھے جن میں ھم حاسد کے شر سے اللہ کی پناہ چاھتے ھیں- آپ بھی ان
کو ضرور پڑھیں-
اللہ "السمیع" سے دعا ھے
کہ اے اللہ! آپ ھمیں حسد کرنے والے کے شر سے بچائیں جب وہ حسد کرنے لگے- آمین اور
اللہ تعالی ھماری مدد کریں کہ ھم بھی کسی سے حسد نہ کریں- آمین
اب سوال یہ ھے کہ اگر کبھی شیطان کے بہکاوے میں
آکر ھمیں کسی سے حسد محسوس ھو تو ھمیں کیا کرنا چاھیئے؟
1-سب سے پہلے تو ھم اللہ مجیب الدعوات سے
دعا کریں کہ اللہ ھمیں حاسد نہ بنائے-
2-اگر پھر بھی کبھی حسد محسوس ھو جائے تو
اللہ تعالی سے سچے دل سے توبہ کریں-
3-اپنے آپ پہ قابو پانے کی کوشش کریں-
4- اللہ تعالی پر پختہ یقین رکھیں کہ وہ
ھمیں بھی وہ عطا کرے گا جو ھمارے لیئے بہترین ھے-
5- اللہ تعالی کا بہت ذکر کریں-
6- آیات دم پڑھیں-
7- اللہ، رب کریم نے جو نعمتیں ھمیں عطا کی
ھیں وہ یاد کریں اور ان کا شکر کریں-
8- قرآن کی تلاوت کریں
اس حدیث میں ھم نے تین باتوں کا علم حاصل کیا ھے-
الحمدللہ
1۔حسد
2۔تکبر
3۔اور اگر ھمیں کسی سے حسد
محسوس ھو تو کیا کرنا چاھیئے۔
معلمات اور امھات سے گزارش ھے کہ وہ اپنے بچوں کی
عمر کے لحاظ سے pick
and choose کریں اور عام فہم الفاظ میں ان کو سمجھائیں-
اللہ تعالی ھمیں علم نافع اور عمل صالح کی توفیق
دے آمین

(صحیح مسلم 2564
پیارے بچو!
ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے ھمیں اس حدیث میں ایک بہت بری عادت سے منع فرمایا ھے، اور وہ ھے حسد-
ایک اور حدیث سے پتہ چلتا ھے کہ یہ ایک ایسی بیماری ھے جو انسان کی نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ھے جیسے آگ سوکھی لکڑی کو-
حسد کیا ھے؟
حسد کے دو حصے ھیں۔
1۔کسی کے پاس اللہ رب العزت کی دی ھوئی کوئی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے-
2- اور یہ سوچ رکھنا کہ یہ نعمت اس کے پاس کیوں ھے؟ اور یہ مجھے کیوں نہیں ملی؟
حسد کرنے کی اسلام میں سخت ممانعت ھے-
قرآن میں بھی سورة الفلق میں حاسد کے شر سے پناہ مانگی گئی ھے-
پیارے بچو!
حاسد کبھی بھی مطمئن اور خوش نہیں رہ سکتا۔ اور وہ اپنے حسد کی وجہ سے اپنا نقصان تو کرتا ھی ھے اس سے اللہ تعالی کو بھی ناراض کر دیتا ھے-
اب آپ یہ قصہ سنیے اور خود ھی فیصلہ کریں کہ حاسد کا انجام کیا ھوتا ھے-
الله تعالی نے جب آدم علیہ السلام کو بنایا تو فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں- شیطان جو کہ جنات میں سے تھا اور اللہ عزوجل کی بہت عبادت کرنے کی وجہ سے مقرب بھی تھا، اس کو بھی یہی حکم ملا، لیکن اس نے اپنے تکبر کی وجہ سے سجدہ کرنے سے انکار کیا-
پیارے بچو!
کیا آپ کو علم ھے کہ تکبر ایک اور بہت بڑی برائی ھے، اور حدیث سے پتہ چلتا ھے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ھوا تو وہ جنت میں نہیں جائے گا-
تکبر کیا ھے؟
اپنے آپ کو کسی بھی معاملے میں دوسروں سے اونچا سمجھنا اور دوسروں کو حقیر/کمتر سمجھنااب آتے ھیں واپس اپنے قصے کی طرف، تو شیطان کو لگتا تھا کہ میں تو آگ سے بنا ھوں اور آدم علیہ السلام مٹی سے، اور میں آدم علیہ السلام سے بہتر ھوں تو میں آدم علیہ السلام کو سجدہ کیوں کروں؟ یہی تکبر اس کو حسد کی طرف لیکر گیا- اور یہ سب سے پہلا حسد ھے جو کیا گیا- ابن القیم رحمه اللہ کہتے ھیں کہ حاسد اصل میں شیطان کی پیروی کرتا ھے-
اب اس حسد میں شیطان نے ٹھان لیا کہ جو نعمت اور فضل اللہ کریم نے آدم علیہ السلام کو دیا ھے اس کو ان سے چھینا جائے- آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی جنت میں رہ رھے تھے اور ان کو اللہ تعالی نے ھر نعمت سے نوازا تھا۔ اور اللہ تعالی نے آزمائش کے طور پر صرف ایک درخت کا پھل کھانے سے منع کیا تھا- شیطان نے اسی طرف سے وار کرنے کا سوچا اور آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی کو حرام کردہ درخت کا پھل کھانے پہ ایسے مائل کیا کہ ان دونوں سے اللہ تعالی کی نافرمانی ھو گئی-اور وقتی طور پر شیطان کامیاب ھو گیا- بعد میں اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو ایک بہت پیاری دعا سکھائی۔ جو ھم حدیث نمبر ایک میں پڑھ چکے ھیں (الاعراف 23) اور اللہ "غفورورحیم" نے آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی کو معاف کر دیا اور زمین پر اپنا نائب بنایا-
جبکہ شیطان کو کیا ملا؟ ذلت اور رسوائی
شیطان ھمارا کھلا دشمن ھے اور وہ بہت خوش ھوتا ھے جب ھم انسان اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ھیں- اس لیئے ھمیں پوری کوشش کرنی چاھئیے کہ ھم شیطان کو دوست نہ بنائیں اور اس کو خوش نہ کریں-
جب بھی کچھ کرنے کا ارادہ ھو تو ذرا ٹہر کر سوچیں؛ کیا اس سے میرا رب خوش ھو گا یا ناراض؟ اگر اللہ سبحانه تعالی ناراض ھو گا تو صاف ظاھر ھے کہ شیطان خوش ھو گا- یہی تو وہ چاھتا ھے اور بچو! ھم سب نے مل کر، اللہ "النصیر" کی مدد سے شیطان کو ناکام بنانا ھے ان شاءالله- اب آپ اس قصے پر ذرا غور کر کے دیکھیئے، شیطان کے تکبر اور غرور نے اس کو کہاں لا کھڑا کیا؟ کہاں تو وہ اتنا مقرب تھا اور کہاں اللہ تعالی نے اس کو ذلیلوں میں شامل کیا- (الاعراف 13)
اور شیطان اور اس کے ماننے والوں کا ٹھکانہ جہنم ھو گا، جو کہ بہت ھی برا ٹھکانہ ھے-
اس قصے سے ھمیں یہ سبق ملتا ھے کہ کبھی بھی کسی کا برا نہیں سوچنا چاھیئے اور نہ ھی اللہ تعالی کی دی ھوئی نعمتوں کو کسی کے پاس دیکھ کر حسد کرنا چاھئیے-
نبی کریم ﷺ نے صبح اور شام کے اذکار میں معوذتین پڑھنے کی تاکید کی ھے جن میں ھم حاسد کے شر سے اللہ کی پناہ چاھتے ھیں- آپ بھی ان کو ضرور پڑھیں-
اللہ "السمیع" سے دعا ھے کہ اے اللہ! آپ ھمیں حسد کرنے والے کے شر سے بچائیں جب وہ حسد کرنے لگے- آمین اور اللہ تعالی ھماری مدد کریں کہ ھم بھی کسی سے حسد نہ کریں- آمین
اب سوال یہ ھے کہ اگر کبھی شیطان کے بہکاوے میں آکر ھمیں کسی سے حسد محسوس ھو تو ھمیں کیا کرنا چاھیئے؟
1-سب سے پہلے تو ھم اللہ مجیب الدعوات سے دعا کریں کہ اللہ ھمیں حاسد نہ بنائے-
2-اگر پھر بھی کبھی حسد محسوس ھو جائے تو اللہ تعالی سے سچے دل سے توبہ کریں-
3-اپنے آپ پہ قابو پانے کی کوشش کریں-
4- اللہ تعالی پر پختہ یقین رکھیں کہ وہ ھمیں بھی وہ عطا کرے گا جو ھمارے لیئے بہترین ھے-
5- اللہ تعالی کا بہت ذکر کریں-
6- آیات دم پڑھیں-
7- اللہ، رب کریم نے جو نعمتیں ھمیں عطا کی ھیں وہ یاد کریں اور ان کا شکر کریں-
8- قرآن کی تلاوت کریں
اس حدیث میں ھم نے تین باتوں کا علم حاصل کیا ھے- الحمدللہ
1۔حسد
2۔تکبر
3۔اور اگر ھمیں کسی سے حسد محسوس ھو تو کیا کرنا چاھیئے۔
معلمات اور امھات سے گزارش ھے کہ وہ اپنے بچوں کی عمر کے لحاظ سے pick and choose کریں اور عام فہم الفاظ میں ان کو سمجھائیں-
اللہ تعالی ھمیں علم نافع اور عمل صالح کی توفیق دے آمین
پیارے بچو!
ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے ھمیں اس حدیث میں ایک بہت بری عادت سے منع فرمایا ھے، اور وہ ھے حسد-
ایک اور حدیث سے پتہ چلتا ھے کہ یہ ایک ایسی بیماری ھے جو انسان کی نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ھے جیسے آگ سوکھی لکڑی کو-
حسد کیا ھے؟
حسد کے دو حصے ھیں۔
1۔کسی کے پاس اللہ رب العزت کی دی ھوئی کوئی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے-
2- اور یہ سوچ رکھنا کہ یہ نعمت اس کے پاس کیوں ھے؟ اور یہ مجھے کیوں نہیں ملی؟
حسد کرنے کی اسلام میں سخت ممانعت ھے-
قرآن میں بھی سورة الفلق میں حاسد کے شر سے پناہ مانگی گئی ھے-
پیارے بچو!
حاسد کبھی بھی مطمئن اور خوش نہیں رہ سکتا۔ اور وہ اپنے حسد کی وجہ سے اپنا نقصان تو کرتا ھی ھے اس سے اللہ تعالی کو بھی ناراض کر دیتا ھے-
اب آپ یہ قصہ سنیے اور خود ھی فیصلہ کریں کہ حاسد کا انجام کیا ھوتا ھے-
الله تعالی نے جب آدم علیہ السلام کو بنایا تو فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں- شیطان جو کہ جنات میں سے تھا اور اللہ عزوجل کی بہت عبادت کرنے کی وجہ سے مقرب بھی تھا، اس کو بھی یہی حکم ملا، لیکن اس نے اپنے تکبر کی وجہ سے سجدہ کرنے سے انکار کیا-
پیارے بچو!
کیا آپ کو علم ھے کہ تکبر ایک اور بہت بڑی برائی ھے، اور حدیث سے پتہ چلتا ھے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ھوا تو وہ جنت میں نہیں جائے گا-
تکبر کیا ھے؟
اپنے آپ کو کسی بھی معاملے میں دوسروں سے اونچا سمجھنا اور دوسروں کو حقیر/کمتر سمجھنااب آتے ھیں واپس اپنے قصے کی طرف، تو شیطان کو لگتا تھا کہ میں تو آگ سے بنا ھوں اور آدم علیہ السلام مٹی سے، اور میں آدم علیہ السلام سے بہتر ھوں تو میں آدم علیہ السلام کو سجدہ کیوں کروں؟ یہی تکبر اس کو حسد کی طرف لیکر گیا- اور یہ سب سے پہلا حسد ھے جو کیا گیا- ابن القیم رحمه اللہ کہتے ھیں کہ حاسد اصل میں شیطان کی پیروی کرتا ھے-
اب اس حسد میں شیطان نے ٹھان لیا کہ جو نعمت اور فضل اللہ کریم نے آدم علیہ السلام کو دیا ھے اس کو ان سے چھینا جائے- آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی جنت میں رہ رھے تھے اور ان کو اللہ تعالی نے ھر نعمت سے نوازا تھا۔ اور اللہ تعالی نے آزمائش کے طور پر صرف ایک درخت کا پھل کھانے سے منع کیا تھا- شیطان نے اسی طرف سے وار کرنے کا سوچا اور آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی کو حرام کردہ درخت کا پھل کھانے پہ ایسے مائل کیا کہ ان دونوں سے اللہ تعالی کی نافرمانی ھو گئی-اور وقتی طور پر شیطان کامیاب ھو گیا- بعد میں اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو ایک بہت پیاری دعا سکھائی۔ جو ھم حدیث نمبر ایک میں پڑھ چکے ھیں (الاعراف 23) اور اللہ "غفورورحیم" نے آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی کو معاف کر دیا اور زمین پر اپنا نائب بنایا-
جبکہ شیطان کو کیا ملا؟ ذلت اور رسوائی
شیطان ھمارا کھلا دشمن ھے اور وہ بہت خوش ھوتا ھے جب ھم انسان اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ھیں- اس لیئے ھمیں پوری کوشش کرنی چاھئیے کہ ھم شیطان کو دوست نہ بنائیں اور اس کو خوش نہ کریں-
جب بھی کچھ کرنے کا ارادہ ھو تو ذرا ٹہر کر سوچیں؛ کیا اس سے میرا رب خوش ھو گا یا ناراض؟ اگر اللہ سبحانه تعالی ناراض ھو گا تو صاف ظاھر ھے کہ شیطان خوش ھو گا- یہی تو وہ چاھتا ھے اور بچو! ھم سب نے مل کر، اللہ "النصیر" کی مدد سے شیطان کو ناکام بنانا ھے ان شاءالله- اب آپ اس قصے پر ذرا غور کر کے دیکھیئے، شیطان کے تکبر اور غرور نے اس کو کہاں لا کھڑا کیا؟ کہاں تو وہ اتنا مقرب تھا اور کہاں اللہ تعالی نے اس کو ذلیلوں میں شامل کیا- (الاعراف 13)
اور شیطان اور اس کے ماننے والوں کا ٹھکانہ جہنم ھو گا، جو کہ بہت ھی برا ٹھکانہ ھے-
اس قصے سے ھمیں یہ سبق ملتا ھے کہ کبھی بھی کسی کا برا نہیں سوچنا چاھیئے اور نہ ھی اللہ تعالی کی دی ھوئی نعمتوں کو کسی کے پاس دیکھ کر حسد کرنا چاھئیے-
نبی کریم ﷺ نے صبح اور شام کے اذکار میں معوذتین پڑھنے کی تاکید کی ھے جن میں ھم حاسد کے شر سے اللہ کی پناہ چاھتے ھیں- آپ بھی ان کو ضرور پڑھیں-
اللہ "السمیع" سے دعا ھے کہ اے اللہ! آپ ھمیں حسد کرنے والے کے شر سے بچائیں جب وہ حسد کرنے لگے- آمین اور اللہ تعالی ھماری مدد کریں کہ ھم بھی کسی سے حسد نہ کریں- آمین
اب سوال یہ ھے کہ اگر کبھی شیطان کے بہکاوے میں آکر ھمیں کسی سے حسد محسوس ھو تو ھمیں کیا کرنا چاھیئے؟
1-سب سے پہلے تو ھم اللہ مجیب الدعوات سے دعا کریں کہ اللہ ھمیں حاسد نہ بنائے-
2-اگر پھر بھی کبھی حسد محسوس ھو جائے تو اللہ تعالی سے سچے دل سے توبہ کریں-
3-اپنے آپ پہ قابو پانے کی کوشش کریں-
4- اللہ تعالی پر پختہ یقین رکھیں کہ وہ ھمیں بھی وہ عطا کرے گا جو ھمارے لیئے بہترین ھے-
5- اللہ تعالی کا بہت ذکر کریں-
6- آیات دم پڑھیں-
7- اللہ، رب کریم نے جو نعمتیں ھمیں عطا کی ھیں وہ یاد کریں اور ان کا شکر کریں-
8- قرآن کی تلاوت کریں
اس حدیث میں ھم نے تین باتوں کا علم حاصل کیا ھے- الحمدللہ
1۔حسد
2۔تکبر
3۔اور اگر ھمیں کسی سے حسد محسوس ھو تو کیا کرنا چاھیئے۔
معلمات اور امھات سے گزارش ھے کہ وہ اپنے بچوں کی عمر کے لحاظ سے pick and choose کریں اور عام فہم الفاظ میں ان کو سمجھائیں-
اللہ تعالی ھمیں علم نافع اور عمل صالح کی توفیق دے آمین

0 comments: