Showing posts with label Seerat-un-Nabi. Show all posts
Showing posts with label Seerat-un-Nabi. Show all posts
 
ساتھیوں سے تعلق

 فجرکی نماز کے بعد مسجد میں ساتھیوں کے درمیان بیٹھ جاتے،ان کی باتیں سنتے،کوئی خواب سناتا تو مطلب بیان 

کرتے۔  

🎊 شعر بھی سنتے،اس پر انعام بھی دیتے۔ 

🎊 غنیمت یا صدقہ بانٹتے۔ 

🎊 ہدیہ قبول کرتے اور بدلے میں بھی دیتے تھے۔ 

🎊 خوشبو بہت پسند تھی اس لیے خوشبو کاتحفہ کبھی کبھی ردّ نہ کرتے۔ 

🎊 اچھے نام پسند کرتے اور بُرے نام تبدیل کر دیتے۔ 

 🎊 ساتھیوں کے نام پیار سے بھی لیتے۔

🎊  حضرت علیؓ کو ایک مرتبہ کہا

 یٙا اٙبٙا تُراب " اے مٹی والے 

🎊 حضرت ابو ہریرہؓ سے کہتے

 یٙا اٙبٙاھِرّ " اے بلی والے

🎊 حضرت انسؓ سے کہتے

 یٙا ذٙاالْاُذُنٙیْن " اے دو کانوں والے 

👆🏻 اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ آپؐ کا معاملہ ان کی سطح پر اور ان کے مزاج کے مطابق ہوتا جو ان کے لیے خوشی کا باعث ہوتا

🎊 مہمان بھی بنے میزبانی بھی کی،مہمانوں کی خاطر داری اور تواضع خواب فرماتے،خود بھی ان کی خدمت کرتے۔ 

🎊 مہمان نوازی میں کبھی ایسا بھی ہوتا کہ گھر میں موجود سب خوراک ان کی نذر ہو جاتی اور اہل خانہ فاقہ کرتے۔   

🎊 دعوت بھی قبول کرتے، اگر کوئی غلام جو کی روٹی کی دعوت کرتا تو شرف قبولیت بخشتے اور فرماتے اگر مجھے ایک کُھر یا دستی پر کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ بھی قبول کروں گا۔ 

 🎊 لوگوں کی ہدایت کے لیے تڑپتے۔ 

🎊 آپؐ فرماتے:  " آسانی کیا کرو،مشکل پیدا نہ کرو"

🎊 " خوشخبریاں دیا کرو اور نفرت نہ دلایا کرو

🎊 دو باتوں میں اختیار ہوتا تو آسان کو اختیار فرماتے بشرطیکہ گناہ نہ ہو۔

🎊 آپؐ نے کبھی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا نہ کسی کی توہین کی، نہ کبھی کسی کی دل شکنی کرتے۔

🎊 لوگوں کو آپؐ سے ہٹایا نہیں جاتا تھا۔

🎊 آپؐ کے لیے ہٹو بچو کی آوازیں نہیں آتی تھیں۔ 

🎊 "اور نہ لوگوں کو آپؐ سے مار مار کر دھتکارا جاتا۔"  

🎊 کسی مہم پر لوگوں کو روانہ کرتے ہوئے امیر کارواں کو دعا دیتے اور نصحیت کرتے۔

بچوں سے تعلق

بچوں کے ساتھ انتہائی شفقت سے پیش آتے۔ ان کے پاس سے گزرتے تو خود سلام کرتے۔
 
💖 حضرت فاطمہؓ آتیں تو ان کا ہاتھ اور ماتھا چومتے پھر خاص جگہ پر بٹھاتے۔
 
 💖 حضرت حسن بن علیؓ کے لیے اپنی زبان نکالتے تو وہ آپ کو دیکھ کر مسکراتے یعنی بچوں کے ساتھ بچوں کی سطح کا معاملہ کرتے۔
 
💖 حضرت حسنؓ کو اٹھا کر کہتے " میں اس سے محبت کرتا ہوں، تم لوگ بھی اس سے محبت کرو"
 
💖 آپؐ نماز پڑھ رہے ہوتے اور حسنؓ اور حسینؓ کھیل رہے ہوتے،آپؑ کی پیٹھ پر سوار ہو جاتے۔
 
 
 💖 امامہؓ جو آپؐ کی نواسی تھیں آپؐ کے کندھوں پر ہوتیں اور آپؐ نماز پڑھا رہے ہوتے۔
 
💖 آج اگر نماز پڑھتے وقت ماں کے پاس بچہ رو رہا ہو تو اسے کھینچ کر ماں سے دور کر دیا جاتا ہے حالانکہ ماں بچے کو اٹھا کر بھی نماز پڑھ سکتی ہے۔
 
💖 بچوں سے محبت اور لاڈ پیار کرتے۔حضرت زینبؓ جو حضرت ام سلٰمہؓ کی بیٹی تھیں آپؐ ان کو زوینب زوینب کہہ کر پکارے۔
 
💖 محمود بن ربیعؓ کہتے ہیں کہ آپؐ ہمارے گھر تشریف لائے میں اس وقت پانچ سال کا تھا آپؐ نے ہمارے 

کنوئیں سے پانی کا گھونٹ بھرا اور میرے چہرے پر پھوار ڈالی یعنی بچوں کے ساتھ دل لگی بھی کرتے۔