مظلوم کی بددعا سے بچو"۔
[صحیح مسلم:121]
پیارے بچو!
✏️کیا آپ کو معلوم ہے کہ
مظلوم کون ہوتا ہے؟ وہ جس کی بددعا سے بچنے کا حکم اس حدیث ﷺ میں ہے.
مظلوم وہ شخص ہے جس پر ظلم کیا جائے،جو بےبس ہو
اور ظلم سہنے پر مجبور ہو۔
ظلم کیا ہے؟
کسی کی حق تلفی کرنا،جھوٹا الزام لگانا،کسی کو اس
کے پیسے واپس نہ کرنا، ناحق جھگڑا کرنا، گالی گلوچ کرنا،غصہ کر کے کسی کی عزت کم
کرنا،طنز کرنا،کسی کے برے برے نام رکھنا،والدین یا اساتذہ سے بدتمیزی سے بات کرنا
وغیرہ سب ظلم ہیں۔
📖مظلوم کی بددعا کا قبول
ہونا بھی قرآن مجید میں واضح ہے:
اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ"۔
وہ (اللہ) جو مجبور و لاچار کی دعا قبول کرتا
ہے.جب وہ
اسے پکارتا ہےاور وہ اس کی تکلیف دور کر دیتا ہے"۔[النمل: 62]
❎ظلم کرنے سے بچنا چاہیے
کیوں کہ قرآن مجید میں ظلم کرنے کے بہت بڑے نقصانات بتائے گئے ہیں جیسے:🔽
1۔ "اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا"۔[التوبة:19]
2۔ "خبردار ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے"۔[ھود:18]
3۔ "اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا"۔
[آل عمران:57]
4۔ "خبردار بے شک ظالم ہمیشہ عذاب میں ہوں گے"۔
[الشوری:45]
5۔ ظالموں کا نہ کوئی گہرا دوست
ہو گا نہ کوئی سفارشی،جس کی بات مانی جائے"۔
[المؤمن:18]
💞نبی کریمﷺنے مظلوم کی
بددعا سے بچنے کی تلقین کیوں کی؟
نبی کریمﷺ فرمایا:
اور مسلمانوں کی بددعا لینے سے
اجتناب کرنا کیوں کہ مظلوم کی بد دعا قبول ہوتی ہے"۔[صحیح
البخاری:3059]
سبحان اللہ!
آپ نے دیکھا کہ الله القهار، الجبار کی نظر میں مظلوم کی کتنی اہمیت ہے۔بےشک مظلوم ظالم کو اس وقت تو نہیں روک
سکتا لیکن سب سے بلند سب سے عظیم رب اس کی دعا سنتا ہے۔
📜 اب یہ قصہ سنیےاور
دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے؟
اللہ کے پیارے نبی سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی
اسرائیل قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔اس وقت کے فرعون کو اس کے جادوگروں نے ایک خواب
کی تعبیر یہ دی کہ بنی اسرائیل کا ایک لڑکا تمہاری (فرعون) بادشاہت ختم کر دے
گا۔فرعون بہت ڈر گیاچنانچہ فرعون نے بنی اسرائیل کے سب لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم
دیا۔فرعون کا یہ ظلم اس کے سارے مظالم سے بڑھ کر تھا جو وہ بنی اسرائیل پر کیا
کرتا تھا۔
بنی اسرائیل نے اللہ سے یوں دعا کی: "... اے ہمارے رب! تو ہمیں ان
لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا جو ظالم ہیں اور ہمیں اپنی رحمت کے ساتھ ان لوگوں سے
نجات دے جو کافر ہیں"۔
[یونس:86،85]
🥀اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان
مظلوموں کی بددعا قبول کی اور آپ کو معلوم ہے کہ فرعون کا کیا انجام ہوا؟
اللہ نے فرعون کو اس کی فوج سمیت سمندر میں غرق کر
دیا جب کہ بنی اسرائیل اسی سمندر کو خیر و عافیت کے ساتھ آرام سے پار کر گئے۔ اللہ
اکبر
(پیارے بچو! یہ ایک بہت ہی سبق آموز قصہ ہے
اس کو قرآن مجید سے تفصیلا"ضرور پڑھیں)
جیسا کہ ہم نے پڑھا کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی بددعا کبھی رد نہیں کرتا اس لیے ہمیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے کسی کو تکلیف ہو اور وہ ہمیں تو کچھ نہ کہہ سکے لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو ہماری شکایت لگا دے۔
عملی نکات:

0 comments: