قال رسول الله ﷺ
پیارے بچو!
آپ کو یاد ہےنا کہ حدیث نمبر 9 میں ہم نے پڑھا تھا کہ
لَا اِلٰه اِلَّا الله کہنے سے صدقہ کا اجر ملتا ہے۔اب اس ذکر کی مزید فضیلت اس حدیث سے معلوم ہو رہی ہے۔
📝ذکر کا معنی: "یاد کرنا"
کس کو؟ اللہ سبحانہ وتعالىٰ کو.
قرآن مجید میں آتا ہے:
" اورجو رحمٰن کے ذکر سے اندھا(غافل) ہو جائےتو ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں پھر وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے"۔[الزخرف:36]
لا الله الا الله کہنے کی فضیلت
پر چند احادیث:
🌹ہمارے پیارے نبی كريمﷺ نے فرمایا:اگر میں سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ ِللہِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكۡبَرُ کہوں تو یہ میرے لیے ان تمام چیزوں سے بہتر ہےجن پر سورج طلوع ہوا۔
[صحیح مسلم:6847]
جس کا آخری کلام "لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ"ہو گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [سنن أبی داؤد:3116]
" لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا باللہَ "۔جس نے اپنی بیماری میں یہ کہا اور فوت ہو گیا تو اسے دوزخ کی آگ نہیں کھائے گی۔[جامع الترمذی:3430]
”ایمان کی تہتر شاخیں ( ٹہنیاں)ہیں۔سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز کا دور کر دینااور سب سے بلند"لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ"کا کہنا ہے“۔[جامع الترمذی:2614]
🌴اتنے اہمیت والے کلمہ کو صرف زبان سے ادا کرنا کافی نہیں بلکہ سمجھنا بھی ضروری ہے۔
لا اله الا الله کے دو حصے ہیں:
1۔لا اله:سب جھوٹےمعبودوں کا انکار
2۔الا اللہ:اللہ ہی کےمعبود برحق ہونے کا اقرار
مسلمان ہونے کے لیے ان کا زبان سے اقرار کرنا لازم ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص اللہ کو "اله" تو مانتا ہو لیکن نماز نہ پڑھے،جھوٹ بولے یعنی نافرمانی کے کام کرے۔جب زبان سے اللہ کو اله مان لیا تب زندگی بھی اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارنا ہو گی۔
📖 آج کا قصہ سنیں اور غور کریں کہ
"لا اله الا اللہ"پر ایمان لانے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کتنے ظلم برداشت کیے مگر اس کلمہ کو نہیں چھوڑا۔ مشرکین مکہ کے ظلم کرنے کی وجہ یہی کلمہ تھا کہ وہ اللہ کو واحد معبود برحق نہیں مانتے تھے بلکہ بتوں کو بھی اللہ کا شریک بنادیتے۔مؤذن رسول سیدنا بلال رضی اللہ عنه کافر سردار امیہ بن خلف کے غلام تھے۔اسلام قبول کرنے پر امیہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر لڑکوں کو دے دیتا اور وہ بلال رضی اللہ عنه کو پہاڑوں میں گھماتے پھرتے۔امیہ بھی ان کو باندھ کر مارتا،بھوکا اور پیاسا رکھتا۔دوپہر کی سخت گرمی میں فرش پر لٹا کر بھاری پتھر سیدنا بلال رضی الله عنه کے سینے پر رکھ دیتا اور ان سے اصرار کرتا کہ کفر کا کلمہ بولو یا یونہی مرجاؤ.ایک روز یہی کچھ ہو رہا تھا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنه کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے امیہ کو رقم دے کر سیدنابلال رضی اللہ عنه کو آزاد کروایا۔
🥀دیکھا بچو!
صحابی رسولﷺ کو اس کلمہ حق سے کس قدر محبت تھی کہ یہ ظلم بھی ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔
🥀عملی نکات:
1۔ کبھی بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہ ہوں۔
2۔ جب بھی فارغ بیٹھے ہوں تو"لا اله الا اللہ "پڑھتے رہنا ہے
ان شاءاللہ ❣️
اے سمیع الدعا !ہمیں ان لوگوں میں شامل کر لےجن کا دل اور زبان ہمیشہ تیری یاد میں مصروف رہتی
ہے۔آمین یا رب العالمین









