قال رسول الله ﷺ
تم سچائی پر قائم رہو"۔
[صحیح مسلم:2607]
پیارے بچو!
آپ کو معلوم ہے کہ صادق کن کا لقب ہے؟
🌹یہ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کا لقب ہےیعنی ہمیشہ سچ بولنے والے ۔اس لقب سے آپﷺ کو آپ کے دشمن بھی پکارتے تھے۔پیارے بچوایک بات یاد رکھیں کہ سچ بولنے میں ہی سکون ہے جھوٹ پریشانی ہی لاتا ہے.
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:"اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ"[التوبة:119]
📚اسی لیے ہنسی مذاق میں بھی جھوٹ بولنا گناہ ہے کیونکہ "جھوٹے پر اللہ کی لعنت ہے"[آل عمران:61](لعنت:اللہ کی رحمت سے دوری) اور اس کے منہ سے بدبو آتی ہے جس کی وجہ سے فرشتے کوسوں میل دور چلے جاتے ہیں(مفہوم حدیث)
ہمیں ایک اور حدیث سےسچ بولنےاور جھوٹ سے بچنے کے فوائد معلوم ہوتے ہیں کہ سچائی نیکی کا راستہ دکھاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے کر جاتی ہے اور آدمی سچ بولتے بولتے صدیق کا درجہ حاصل کر لیتا ہے اور جھوٹبرائی کا راستہ دکھاتا ہےاور برائی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے۔آدمی جھوٹ بولتے بولتے اللہ کے ہاں کذاب(بہت جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔ [بحوالہ صحیح البخاری:6094]
ایک دفعہ رسول اللہﷺایک صحابی عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف فرما تھے(صحابی اس وقت بچے تھے)۔عبداللہ رضی اللہ عنہ کی امی نے ان کو بلایا کہ یہاں آؤ میں تمہیں ایک چیز دوں گی۔ تو نبی کریمﷺنے پوچھا:"تم اس بچے کو کیا دینا چاہتی ہو؟"والدہ نے کہا کہ میں اس کو کھجور دیناچاہتی ہوں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"اگر تم اس کو بلاتی اور کھجور نہ دیتی تو تمہارے نامہ اعمال میں یہ جھوٹ لکھ دیا جاتا" ۔
[سنن أبی داؤد:4991]
یعنی کبھی کسی کام کا ارادہ نہ ہو اور صرف ویسے ہی کہہ دیا جائے کہ کروں گا/ گی تو وہ بھی جھوٹ شمار ہو گا۔
عملی نکات:
1۔ ہمیں مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔
2۔ اپنے عمل،اپنی باتوں اور نیت سے ہی جھوٹ پر چیک رکھنا ہے ۔
3- اور جھوٹ اس لیے چھوڑنا ہے کہ اللہ اور نبی کریم ﷺ کا حکم ہے۔
اے اللہ! ہمیں سچوں میں شامل کر دے اور ہم کبھی مذاق میں بھی کسی سے جھوٹ نہ بولیں۔ آمین
[صحیح مسلم:2607]
پیارے بچو!
آپ کو معلوم ہے کہ صادق کن کا لقب ہے؟
🌹یہ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کا لقب ہےیعنی ہمیشہ سچ بولنے والے ۔اس لقب سے آپﷺ کو آپ کے دشمن بھی پکارتے تھے۔پیارے بچوایک بات یاد رکھیں کہ سچ بولنے میں ہی سکون ہے جھوٹ پریشانی ہی لاتا ہے.
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:"اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ"[التوبة:119]
📚اسی لیے ہنسی مذاق میں بھی جھوٹ بولنا گناہ ہے کیونکہ "جھوٹے پر اللہ کی لعنت ہے"[آل عمران:61](لعنت:اللہ کی رحمت سے دوری) اور اس کے منہ سے بدبو آتی ہے جس کی وجہ سے فرشتے کوسوں میل دور چلے جاتے ہیں(مفہوم حدیث)
ہمیں ایک اور حدیث سےسچ بولنےاور جھوٹ سے بچنے کے فوائد معلوم ہوتے ہیں کہ سچائی نیکی کا راستہ دکھاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے کر جاتی ہے اور آدمی سچ بولتے بولتے صدیق کا درجہ حاصل کر لیتا ہے اور جھوٹبرائی کا راستہ دکھاتا ہےاور برائی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے۔آدمی جھوٹ بولتے بولتے اللہ کے ہاں کذاب(بہت جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔ [بحوالہ صحیح البخاری:6094]
ایک دفعہ رسول اللہﷺایک صحابی عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف فرما تھے(صحابی اس وقت بچے تھے)۔عبداللہ رضی اللہ عنہ کی امی نے ان کو بلایا کہ یہاں آؤ میں تمہیں ایک چیز دوں گی۔ تو نبی کریمﷺنے پوچھا:"تم اس بچے کو کیا دینا چاہتی ہو؟"والدہ نے کہا کہ میں اس کو کھجور دیناچاہتی ہوں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"اگر تم اس کو بلاتی اور کھجور نہ دیتی تو تمہارے نامہ اعمال میں یہ جھوٹ لکھ دیا جاتا" ۔
[سنن أبی داؤد:4991]
یعنی کبھی کسی کام کا ارادہ نہ ہو اور صرف ویسے ہی کہہ دیا جائے کہ کروں گا/ گی تو وہ بھی جھوٹ شمار ہو گا۔
عملی نکات:
1۔ ہمیں مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔
2۔ اپنے عمل،اپنی باتوں اور نیت سے ہی جھوٹ پر چیک رکھنا ہے ۔
3- اور جھوٹ اس لیے چھوڑنا ہے کہ اللہ اور نبی کریم ﷺ کا حکم ہے۔
اے اللہ! ہمیں سچوں میں شامل کر دے اور ہم کبھی مذاق میں بھی کسی سے جھوٹ نہ بولیں۔ آمین


0 comments: