حدیث نمبر 11

حدیث نمبر 11

قال رسول الله

جنت میں آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ دنیا میں محبت رکھتا ہے
صحیح البخاری:6168]
 
اس خوب صورت حدیث میں ایک مسلمان کی زندگی کے بہت اہم پہلو (ہدف/ٹارگٹ) کا تعین کیا گیا ہےاور وہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں جس سے بھی محبت کریں گے، جنت میں وہی ہمارے ساتھی ہوں گے۔ 
 
محبت کا لفظ حبة سے نکلا ہے یعنی بیج۔ہم جس چیز کا بیج بوئیں گے اسی کا پھل نکلے گا۔ مثلاً آم کے بیج سے آم اور آلو کے بیج سے آلو۔ 
📝کیا یہ ممکن ہے کہ بیج تو بوئیں آلو کا اور امید رکھیں کہ آم کا درخت نکلے؟
                  نہیں نا!
بالکل اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ دنیا میں تو ہمارا دل دنیاوی سامان کی طرف مائل ہو اور ہم امید یہ رکھیں کہ یوم قیامت نیکوکاروں کے ساتھ اٹھائے جائیں۔ محبت کا یہ جذبہ ہر ایک میں موجود ہے لیکن یہ محبت سب کی فرق ہوتی ہے۔ کسی کو پیسہ سے، کسی کو گھرسے، کسی کو دوستوں سے، کسی کوگھومنے پھرنے اور کھانے پینےسے، کسی کوکھلاڑیوں اور فلم ایکٹرز وغیرہ سے۔وہ اُن کی تصاویر جمع کرتے ہیں اور ان کے جیسا طرز زندگی (لائف سٹائل) اپناتے ہیں۔ان سے ملنے کی تمنا رکھتے ہیں۔ یہ سب دنیا کی وقتی محبتیں ہیں اور دنیا میں ہی رہ جائیں گی۔ 
 
جب کہ مسلمان کوایسی محبت کرنی چاہیےجس سے ہمیں دنیا کی  سب عارضی بھلائیاں بھی ملیں اور ہمیشہ رہنے والی جنت  بھی۔ 
💞وہ ہے صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت ۔وہی ہمیں سب سے بڑھ کر محبوب ہوں۔جو دین و دنیا کی ہربھلائی کا باعث ہیں ۔
 
اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ محبت ایمان کا حصہ ہے۔جتنی محبت زیادہ ہوگی، اطاعت اتنی زیادہ ہوگی اور اس کی لیے ان سے متعلق علم ہونا ضروری ہے۔ 
جس کے متعلق ہم جانتے نہیں، اس سے محبت کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔اس لیےہمیں اپنا وقت، طاقت اور صلاحیت اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں جاننے اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرنے پر لگانی چاہیے جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ؕ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ .
"کہہ دیجئے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو پیروی کرو میری (رسول ﷺ)، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ [آل عمران:31]
 
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اوپر دی گئی آیت کی عملی تفسیر بن گئے اور خاص ہو گئے جو کہ اسلام سے پہلے اس معاشرے کے عام سے انسان تھے۔
نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث میں تلقین کرتے ہوئے فرمایا:" کہ تین خصلتیں (باتیں) ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا۔اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں، دوسرا یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے۔ تیسرا یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔
[صحیح البخاری:16]
 
حدیث واضح کر رہی ہے کہ ہمیں والدین اور بہن بھائیوں سے بھی زیادہ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت ہونی چاہیے بلکہ دوستوں سے محبت بھی اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ اچھے، دین سے محبت رکھنے والے دوست ہمیں بھی دین سے محبت سیکھائیں گے جب کہ برے دوست، برائی کی طرف لے جائیں گے۔ 
بچوکیا آپ کو سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت کا قصہ معلوم ہے؟
نہیں!توہم بتاتے ہیں:
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔اس موقع پر میرے پاس مال بھی تھا ۔ چنانچہ میں نے ( دل میں ) کہا: اگر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سبقت( یہاں مراد نیکی میں آگے نکلنا ہے) لینا چاہوں تو آج لے سکتا ہوں۔چنانچہ میں اپنا آدھا مال( آپ ﷺ کی خدمت میں ) لے آیا۔رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا باقی چھوڑا ہے؟میں نے کہا:اِسی قدر (چھوڑ آیا ہوں، یعنی آدھا)اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال( آپﷺ کے پاس )لے آئے۔رسول اللہﷺنے ان سے پوچھا:”تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا باقی چھوڑا ہے؟ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسولﷺ کو چھوڑا ہے(یعنی سارا گھر خالی کر آیا ہوں)تب مجھے( عمر رضی اللہ عنہ) کہنا پڑا،میں کسی شے میں کبھی بھی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نہیں بڑھ سکتا ۔
[بحوالہ سنن أبی داؤد: 1678]
دیکھا بچو! اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت میں آگے بڑھنے کا مقابلہ،کیا اپنے گھر کی ایک ایک چیز صدقہ کر دینا آسان ہے؟
سوچنے کی بات:
بچو!آپ بھی سوچیں کہ آپ کس سے محبت کرتے ہیں؟ اور کیا قیامت کے دن اس کا ساتھ آپ کو اچھا لگے گا؟
عملی نکات:
1۔ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے محبت دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر ہونی چاہیئے۔
2۔ اس محبت کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لئے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو جاننا بہت ضروری ہے۔
3۔ دوست سے محبت بھی اللہ کی رضا کے لئے ہونی چاہیئے اور دوست وہ بنائے جائیں جو دین میں مدد دیں۔


 
Categories:
Similar Posts

0 comments: