حدیث نمبر10


حدیث  نمبر10

قال رسول الله


جو ہمیں دھوکا دیتا ہے، اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں "
[صحیح مسلم:284]
 
پیارے بچو!
کیا آپ کو پتہ ہے کہ دھوکہ دینا کیا ہے؟
 
دھوکہ:یہ ہے کہ اپنے فائدے کے لیے دوسروں کو نقصان پہنچانا. چاہےاس کے لیےجھوٹ بول کر فائدہ لینا ہو، کسی کو گمراہ کرنا، غلط معلومات دینا، چالاکی سے کام لے کر اپنا مقصد پورا کرنا، ملاوٹ کرنا، امتحان میں نقل کرنا وغیرہ  سب دھوکہ میں آئیں گے۔
 
قرآن مجید میں سورة یوسف میں سیدنا یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے سیدنا یوسف علیہ السلام کو دھوکہ کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔
 
قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ۔
 
(سیدنا یعقوب علیہ السلام نے) کہا: پیارے بیٹے! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تیرے ساتھ کوئی فریب کاری (دھوکہ) کریں، شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے۔
 [یوسف:5]
 
یعنی دھوکہ دہی شیطان کی پیروی کرنے والا کرتا ہے۔
 
ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی بھی معاملہ میں کسی کو دھوکہ دے۔
 
دھوکہ کے نقصانات:
1۔سب سے پہلے تو دھوکہ دینے والے سے اللہ ناراض ہو جاتا ہے۔
2۔ اب اگر اللہ ناراض ہو گا تو لازما" شیطان خوش ہو گا کہ اس نے وہ کام کروایا جو اللہ "الغفور و الرحیم" کی ناراضی کا سبب بنا۔
3۔ جب بھی دھوکہ کھانے والے کو پتہ چلے گا کہ اس کے ساتھ دھوکا ہوا ہے تو تعلقات خراب ہوں گے۔
4۔ دھوکا کرنے والے پر کوئی اعتبار نہیں کرے گا۔
5۔ سب سے بڑی بات کہ نبی کریمﷺ نے بتا دیا کہ دھوکہ کرنے والے کا ہم سے یعنی نبی کریم ﷺ سے کوئی تعلق نہیں۔
 
کیا آپ کبھی بھی یہ چاہیں گے کہ آپ کا نبی کریم ﷺ کے ساتھ کوئی تعلق نہ رہے؟ 
 
اگر نہیں؟ تو پھر ہم سب کو دھوکہ دینے سے بچنا ہے۔ ہر ممکن کوشش کرنی ہے کہ ہم ایسا کوئی کام نہ کریں جو کہ دھوکہ دہی کے زمرہ میں آئے۔
 
ایک حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں اپنے بھائی کے لیےوہی پسند کرنا چاہیے جو اپنے لیے پسند کریں۔ 
[بحوالہ صحیح البخاری:13]💕
 
اب آپ ہی بتائیں کیا ہمیں اچھا لگے گا کہ کوئی ہم سے پیسے تو پورے لے لے لیکن کم چاکلیٹ (یا کوئی بھی چیز) دے، خراب پھل دے دے، پتلا دودھ دے یا امتحان میں نقل کر کے ہم سے زیادہ نمبرز لے لے۔
 
نہیں نا!
تو بس جب ہمیں اپنے لیے پسند نہیں کہ کوئی ہمارے ساتھ یہ دھوکے کرے تو ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے ۔ 
 
🌲اب سنیے ایک واقعہ کہ جس میں نبی کریم ﷺ نے کیسے دھوکہ کی وضاحت کی۔
 
ایک دفعہ نبی کریم ﷺ ایک بازار میں جا رہے تھے کہ ایک غلے والے (غلہ: گندم، جو، چاول وغیرہ) کے ڈھیر کے پاس سے گزرے۔ آپ ﷺ نے اس کے غلے کے ڈھیر میں ہاتھ ڈالا تو اندر سے نمی محسوس کی۔ آپ ﷺ نے غلے والے سے سوال کیا:اے غلے والے! یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: تو تم نے اس (بھیگے ہوئے غلے) کو اوپر کیوں نہیں رکھا تا کہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟
پھر مزید فرمایا: جس نے دھوکا کیا، وہ مجھ سے نہیں۔ یعنی ان لوگوں میں سے نہیں جو نبی کریم ﷺ سے وابستہ ہوں گے۔
[بحوالہ صحیح مسلم:284]
 
پیارے بچو! اس حدیث سے آپ نے کیا سبق سیکھا؟
 
عملی نکات:
1۔کبھی بھی کسی کو دھوکہ نہیں دینا۔
2۔ اگر کوئی چیز بیچنی ہے تو اس کی خامی بتا کر بیچنا ہے۔
3۔ جو اپنے لئے پسند کریں وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرنا ہے۔
 
 اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی مجیب الدعوات ہمیں نیکی پر چلنے کی توفیق دے آمین۔💦

 
Categories:
Similar Posts

0 comments: