حدیث نمبر 14


Kids Coner

قال رسول الله


تم جہاں اور جس جگہ بھی ہو،اللہ سے ڈرو"۔ [جامع الترمذی:1987
💠پیارے بچو!
تقوی کا معنی : ڈرنا، بچنا
ڈرنا : اللہ سے
بچنا: گناہوں سے
'اتق اللہ' یعنی اللہ کا ڈر(تقویٰ)
اصطلاحی معنی: اللہ کے ڈر اور خوف سے اطاعت والے کام کرنا اور نافرمانی والے کام چھوڑ دینا۔
 ہماری روزمرہ زندگی کے ہر کام میں تقوی اختیار کرنا بہت اہم ہے۔اللہ"اَلۡبَصِیُرۡ" ہے۔ ہمارا ہر عمل دیکھ رہا ہے۔جیسے کیمرہ فلم بناتا ہے ایسے ہی ہمارے ایک ایک عمل کی فلم بن رہی ہے اور وہ فلم ہمیں قیامت کے روز دکھائی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَنۡظُرۡ  نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ  ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ .
" اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور (ہر) شخص ضرور دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے اور تم اللہ سے ڈرتے رہو بےشک اللہ اس سےخوب باخبر ہےجو تم عمل کرتے ہو "۔
 [الحشر: 18]
 
🥦 تقویٰ دل کی ایسی کیفیت کا نام ہے جب دل میں آ جائے تو سمجھیں اللہ کی رضا پا لی اور دل کو  حقیقی سکون بھی مل گیا۔
اوراللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو قرآن مجید میں بےشمار خوش خبریاں دی ہیں۔🎊 (آیات کا مفہوم ہے)
1:بے شک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ [بحوالہ التوبہ:7]
2:  تقویٰ والوں کے لیے جنت تیار کی گئی ہے۔ [بحوالہ آل عمران:133]
3: متقین کے لیے بہت بڑے اجر کا وعدہ ہے۔ [بحوالہ آل عمران:179]
4:متقین عزت والے ہوں گے۔[بحوالہ الحجرات:13]
5: اللہ تعالیٰ متقین کے گناہ دور کر دے گا اوربخش دےگا۔ [بحوالہ الانفال:29]
6: بے شک اللہ ان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کریں۔[بحوالہ النحل:128]
7 : اور جو متقی ہو گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی کر دے گا۔ [بحوالہ الطلاق:4]
 
🥀پیارے بچو
آپ کو پتہ ہوگا ڈر دل میں ہوتا ہے جو کسی کو نظر نہیں آتا۔اللہ تعالیٰ کا ایک نام "اَلۡخَبِیۡرُ" یعنی"خوب خبر رکھنےوالا" ہے تو اس کو دل میں چھپی سب باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
 
اب جانتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیسے تقویٰ اختیار کرنا سیکھتے تھے
ایک دفعہ خلیفہ دوم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنه نے ایک صحابی سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنه سے تقویٰ کے بارے میں پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے؟ سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنه نے سیدنا عمر رضی اللہ عنه سے جوابا" پوچھا:کیا آپ کو کبھی کانٹوں والے راستے پر چلنے کا اتفاق ہوا ہے؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنه نے کہا:ہاں،تو کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ ایسے راستے پر چلتے ہوئے کیا کرتے ہیں؟سیدنا عمر رضی اللہ عنه نے کہا:دامن(کپڑوں) کو سمیٹ لیتا ہوں اور کوشش کر کے احتیاط سے(ان کانٹوں سے کپڑے بچا کر) گزر جاتا ہوں۔سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنه نے کہا:بس ایسے ہی گناہوں سے بچنے کا نام تقویٰ ہے"۔[تفسیر القرطبی:162/1]
 سبحان اللہ! کس خوب صورتی سے بات کو سمجھایا کہ گناہ سے بچنا اصل تقویٰ ہے۔
 
عملی نکات:
1۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے،چھپا کر کئے گئے کام بھی اور ظاہر بھی۔
2۔ امتحان میں ٹیچر نہ بھی دیکھ رہا ہو تو چیٹنگ نہیں کرنی،کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دینا اور جھوٹ نہیں بولنا
 
🌾اے ہمارے رب! ہمیں متقین میں شامل کر دے اور جن جن نعمتوں کا وعدہ متقین سے کیا ہے ہمیں بھی 
عطا کرنا۔ آمین یا رب العالمین

 
Categories:
Similar Posts

0 comments: