Showing posts with label Hadith. Show all posts
Showing posts with label Hadith. Show all posts
کتاب الوحی حدیث 4

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ‏}‏ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ ـ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَنَا أُحَرِّكُهُمَا لَكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَرِّكُهُمَا‏.‏ وَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا‏.‏ فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ ـ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ* إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ‏}‏ قَالَ جَمْعُهُ لَهُ فِي صَدْرِكَ، وَتَقْرَأَهُ ‏{‏فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ‏}‏ قَالَ فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ ‏{‏ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ‏}‏ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ‏.‏ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ، فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَمَا قَرَأَهُ‏.
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے حدیث بیان کی ، ان کو ابوعوانہ نے خبر دی ، ان سے موسیٰ ابن ابی عائشہ نے بیان کی ، ان سے سعید بن جبیر نے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کلام الٰہی «لا تحرك به لسانك لتعجل به‏» الخ کی تفسیر کے سلسلہ میں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزول قرآن کے وقت بہت سختی محسوس فرمایا کرتے تھے اور اس کی ( علامتوں ) میں سے ایک یہ تھی کہ یاد کرنے کے لیے آپ اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا میں اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح آپ ہلاتے تھے ۔ سعید کہتے ہیں میں بھی اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما کو میں نے ہلاتے دیکھا ۔ پھر انھوں نے اپنے ہونٹ ہلائے ۔ ( ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ) پھر یہ آیت اتری کہ اے محمد ! قرآن کو جلد جلد یاد کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلاؤ ۔ اس کا جمع کر دینا اور پڑھا دینا ہمارا ذمہ ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں یعنی قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جما دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے ۔ پھر جب ہم پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ( اس کا مطلب یہ ہے ) کہ آپ اس کو خاموشی کے ساتھ سنتے رہو ۔ اس کے بعد مطلب سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے ۔ پھر یقیناً یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ اس کو پڑھو ( یعنی اس کو محفوظ کر سکو ) چنانچہ اس کے بعد جب آپ کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام ( وحی لے کر ) آتے تو آپ ( توجہ سے ) سنتے ۔ جب وہ چلے جاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( وحی ) کو اسی طرح پڑھتے جس طرح حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اسے پڑھا تھا  .
 
کتاب الوحی حدیث 2


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ ـ رضى الله عنه ـ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْىُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم  " أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ ـ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَىَّ ـ فَيُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلاً فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ "‏‏. قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْىُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا‏.


ہم کو عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی ، ان کو مالک نے ہشام بن عروہ کی روایت سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے نقل کی ، انھوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی آپ نے فرمایا کہ ایک شخص حارث بن ہشام نامی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ یا رسول اللہ ! آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق گذرتی ہے ۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پر اس ( فرشتے ) کے ذریعہ نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے اور کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ بشکل انسان میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے ۔ پس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے سخت کڑاکے کی سردی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی ۔